حکومتِ پنجاب کی جانب سے 2007 کے ایک طویل انتظار اور تعطل کے بعد بسنت جیسے عالمی شہرت یافتہ ثقافتی تہوار کو سرکاری سرپرستی میں بحال کرنے کا فیصلہ ایک تاریخی، جرات مندانہ اور انتہائی قابلِ ستائش اقدام ہے، جس نے نہ صرف صوبے کی ثقافتی فضاؤں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے بلکہ برسوں سے مایوس فنکاروں اور کاریگروں کو بھی جینے کی ایک نئی امید دی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ موقف کہ "پنجاب سب کا ہے اور ہر مذہب و طبقے کو اپنی خوشیاں منانے کا پورا حق ہے"، ایک روشن خیال، متوازن اور روادار معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جو انتہا پسندی کے بجائے اعتدال پسندی اور عوامی امنگوں کو اولیت دیتا ہے۔ یہ محض ایک تہوار کی واپسی نہیں بلکہ اس بیانیے کی فتح ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو خوشیاں فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔
اس فیصلے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حکومت نے صرف جشن کا اعلان کر کے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کی، بلکہ 6، 7 اور 8 فروری کے لیے ایک ایسا جامع اور فول پروف "سیفٹی پلان" متعارف کروایا ہے جو جدید انتظامی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماضی میں اس تہوار پر پابندی کی سب سے بڑی وجہ انسانی جانوں کا ضیاع تھا، لیکن اس بار حکومت نے ٹیکنالوجی اور بہتر حکمت عملی کا سہارا لیا ہے۔ لاہور کو مختلف زونز میں تقسیم کرنا اور ہر زون کے لیے الگ انتظامی ٹیمیں تشکیل دینا اس بات کی علامت ہے کہ ہر گلی کوچے کی نگرانی کی جائے گی۔ سب سے اہم اقدام موٹر سائیکل سواروں کی جان بچانے کے لیے 10 لاکھ سیفٹی راڈز کی مفت فراہمی ہے، جو سڑکوں پر چلنے والے عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ مزید برآں، پتنگ سازوں کی رجسٹریشن اور غیر قانونی دھاتی ڈور بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ انتظامیہ اس بار شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
بسنت صرف ایک تفریح نہیں بلکہ ایک بہت بڑی معاشی سرگرمی کا نام ہے۔ 2007 سے پہلے لاہور کی بسنت دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ اس کی بحالی سے پنجاب کی معیشت میں اربوں روپے کی گردش متوقع ہے۔ ہوٹلنگ انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، اور مقامی کھانوں کے کاروبار سے جڑے افراد اس فیصلے کو ایک نعمت قرار دے رہے ہیں۔ ہزاروں ایسے خاندان جو پتنگ سازی اور ڈور بنانے کے فن سے وابستہ تھے اور بیروزگاری کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے، اب دوبارہ باعزت روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں گے۔ یہ اقدام پنجاب کی "سافٹ پاور" کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے پاکستان کا ایک پرامن اور زندہ دل قوم والا تاثر ابھرے گا۔
تمام حکومتی سرپرستی اور بہترین انتظامات کے باوجود، اس تہوار کی اصل کامیابی اور مستقل بحالی کا دارومدار خود عوام کے ذمہ دارانہ رویے پر ہے۔ حکومت راستہ دکھا سکتی ہے، سہولیات فراہم کر سکتی ہے، لیکن قانون پر عمل درآمد شہریوں کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ عوام کو یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ بسنت رنگوں، خوشیوں اور محبت کے اظہار کا نام ہے، نہ کہ کسی کی جان لینے یا معصوم خاندانوں کو اجاڑنے کا ذریعہ۔ جہاں کاریگروں کے چہروں پر روزگار کی واپسی کی مسکراہٹ لوٹ آئی ہے، وہیں شہریوں پر یہ بھاری اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دھاتی یا کیمیکل ڈور کے استعمال سے مکمل گریز کریں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں چند افراد کی لاپرواہی نے اس تہوار کو "موت کے کھیل" میں بدل دیا تھا، لیکن اب ہمیں بطور معاشرہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ چکے ہیں۔
اس عمل میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی چھتوں پر بچوں کی سخت نگرانی کو یقینی بنائیں اور انہیں پتنگ بازی کے آداب سے روشناس کروائیں۔ نوجوان نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ہوائی فائرنگ بہادری نہیں بلکہ ایک مجرمانہ فعل ہے جس کی ایک گولی کسی کی زندگی کا چراغ گل کر سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی چاہیے کہ وہ "محفوظ بسنت" کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ یہ پیغام گھر گھر پہنچ سکے کہ خوشی وہی ہے جس میں دوسروں کا دکھ شامل نہ ہو۔
اگر ہم بطور قوم اس موقع پر نظم و ضبط، شعور اور قانون کی پاسداری کا ثبوت دیں، تو ہم دنیا کو یہ واضح پیغام دے سکتے ہیں کہ ہم اپنی قدیم روایات اور ثقافت کو انسانی جان کی قیمت پر نہیں بلکہ انسانیت کے احترام اور تحفظ کے ساتھ منانا جانتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی یہ کاوش تبھی رنگ لائے گی جب لاہور کا آسمان صرف رنگ برنگی پتنگوں سے سجے گا اور سڑکوں پر ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے گا۔ یہ تین دن پنجاب کے لیے ایک امتحان بھی ہیں اور جشن بھی؛ اگر ہم کامیاب رہے تو بسنت ہمیشہ کے لیے ہماری بہاروں کا حصہ بن جائے گی۔




















