سوویت یونین کے دور کا ایک خلائی جہاز ہفتے کو زمین پر آن گرا۔ یہ خلائی جہاز تقریباً نصف صدی قبل زہرہ سیارے کی جانب بھیجا گیا لیکن لانچنگ ناکام ہونے کے باعث یہ زمین کے مدار میں پھنس گیا تھا۔
یورپی یونین کے سپیس سرویلنس اینڈ ٹریکنگ ادارے نے تصدیق کی کہ یہ خلائی جہاز بے قابو ہو کر زمین میں واپس داخل ہوا۔ یہ تصدیق جہاز کے اگلے مداروں میں نظر نہ آنے کی بنیاد پر کی گئی۔
یورپیئن سپیس ایجنسی کے خلائی ملبے کے دفتر نے بھی کہا کہ جرمنی کے ایک ریڈار سٹیشن پر جہاز ظاہر نہ ہونے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زمین پر واپس آ چکا ہے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ یہ جہاز زمین کے کس حصے میں گرا اور اس کا نصف ٹن وزنی حصہ مدار سے زمین کی جانب واپسی کا سفر کرنے کے بعد کتنا باقی بچا ہے۔
ماہرین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اس کا کچھ حصہ یا پورا خلائی جہاز زمین پر گر سکتا ہے کیوں کہ اسے نظام شمسی کے گرم ترین سیارے زہرہ پر اترنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
کوسموس 482‘ نامی یہ خلائی جہاز سوویت یونین کے 1972 میں زہرہ سیارے کے لیے بھیجے گئے کئی مشنز میں سے ایک تھا، لیکن راکٹ میں خرابی کے باعث یہ زمین کے مدار سے باہر نکل ہی نہیں سکا۔
اس ناکام لانچنگ کے 10 برس کے اندر ہی اس کا بڑا حصہ زمین پر واپس گر گیا، تاہم اس کا بیضوی لینڈر، جس کا قطر تقریباً تین فٹ (ایک میٹر) تھا، مدار میں گردش کے دوران زمین کی کشش ثقل کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا۔






















