امریکی صدر کی ٹیرف وار سے رواں صدری کے تیسرے معاشی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
انوسٹمنٹ بینک جے پی مورگن نے گلوبل ریسیشن کا امکان 40 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کردیا۔ فنانشل نوٹ میں بینک نے کہا کہ امریکی پالیسیاں عالمی تجارت کیلئے تباہ کن ثابت ہورہی ہیں۔
وال اسٹریٹ بروکر، بارکلیز اور ڈوئچے بینک نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف واپس نہ لیا تو امریکا رواں سال ہی کساد بازاری کا شکار ہوسکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹیرف لاگو ہونے کے بعد ہر امریکی خاندان پر 7 ہزار 300 ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
یاد رہے کہ رواں صدی کا پہلا معاشی بحران 2008 میں آیا تھا جب امریکا کی ہاؤسنگ مارکیٹ کریش کرگئی اورہزاروں کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں۔ 2020 میں کورونا وبا کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن لگ گیا جو معاشی بحران کا باعث بنا تھا۔