امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ملک کی اپنی سٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
امریکی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں کریش کرگئیں۔ سرمایہ کاروں کے کھربوں ڈالرڈوب گئے۔ امریکی منڈیاں 2020 کے بعد بدترین گراوٹ کا شکار ہیں۔
معروف کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ جیسے نائیکی کی قدر میں 11 فیصد، گیپ میں 18 فیصد اور ایمیزون میں 7 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ ایپل، جس کی مصنوعات چین میں بنتی ہیں، کی قدر میں نو فیصد کمی آئی۔
نیسڈیک 6 فیصد، ایس اینڈ پی چار اعشاریہ آٹھ فیصد، ڈاؤ جونزکے حصص چارفیصد گرگئے۔ ایپل کمپنی کو 300 ارب ڈالرکا نقصان ہوگیا۔ امریکہ میں شمسی توانائی سے متعلق کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔
شیئر کی قدر دن کے دوران واپس بحال ہو سکتی ہے، یعنی یہ تبدیلی مستقل نہیں ہوتی تاہم اقتصادی ماہرین نے امریکا سمیت عالمی منڈیوں میں نئی کساد بازاری کا خدشہ ظاہرکردیا ۔