وزیراعظم شہبازشریف نے گھریلو اور صنعتی صارفین کےلیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے بجلی فی یونٹ 7.41 روپے سستی کرنے کا اعلان کردیا۔ گھریلو صارفین کو بجلی اب 34 روپے فی یونٹ ملے گی۔ پہلے گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت48 روپے 70 پیسے تھی۔ صنعتوں کیلئے بجلی7روپے 59 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹاسک فورس نے آئی پی پیز سے معاملات طے کیے، جس طرح آئی پی پیز سے مذاکرات کیے،یہ لائق تحسین ہے، آئی پی پیز سے بات کرکے3ہزار696 ارب روپے کم کرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا سرکلر ڈیٹ2کھرب393ارب روپے ہے، بجلی کے2ہزار393ارب روپے سرکلرڈیٹ کابھی انتظام کرلیا، بجلی چوری اوردیگرچیزیں اس میں شامل ہیں۔ بجلی کی چوری روک لی تومزیدسستی کریں گے۔
شہبازشریف نے کہا کہ بجلی قیمتوں کےحوالے سے آئی ایم ایف کو قائل کرنامشکل تھا، پٹرول قیمتوں کے حوالے سے بجلی قیمت میں ایڈجسٹ کا کہا تھا، میں نےبات کی اور خدا خدا کرکے آئی ایم ایف قائل ہوا، آئی ایم ایف پروگرام قوم کی امانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں ایسے فرد کا گزارہ نہیں جوقوم کاوقت ضائع کرے، افسران میں باکمال لوگ ہیں،ایسے بھی ہیں جوفائل لےکروقت گپوں میں گزارتے ہیں، کاروبار،صنعتکاروں سےایک اور میٹنگز کا سلسلہ شروع کروں گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اُڑان بھرنی ہےتودل سے ہم نے کام کرناہے، ہم آج اربوں ڈالرکی کاٹن امپورٹ کررہےہیں، کھربوں ڈالرکی معدنیات اللہ نے ہمیں دی ہیں۔ کہا پچھلے سال ٹیکس وصولی میں اضافہ30 فیصد،اس سال35فیصد اضافہ کریں گے، ٹیکس وصولی سے قرض کم لینے پڑیں گے۔
ملکی ترقی وخوشحالی کا سفر شروع
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ہم بہتری کی جانب تیزی سےقدم بڑھارہے ہیں، نوازشریف نے منشور میں درج کرایا تھا مہنگائی2026میں سنگل ڈیجٹ پر لائیں گے اور آج میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ پرہے، مہنگائی38فیصد سے ڈیڑھ فیصد پر آچکی ہے، ایک سال میں پیٹرول کی قیمت38روپے کی کمی آئی، پیٹرول کی قیمت پاکستان میں پورےخطے سے کم ہیں، ساڑھے22فیصد شرح سود تھی،آج12 فیصد پر آچکی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کی بہتری کیلئے درست اورکڑے فیصلے کرنےکی ضرورت ہے، آج ہمیں سرجری کرنی ہوگی، نجکاری اوررائٹ سائزنگ درست اورکڑےفیصلوں کی کڑی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے کوئی سبسڈی نہیں دی جاسکتی، سبسڈی سے کاروبار چلانا زیادتی کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں، ملکی ترقی وخوشحالی کا سفر شروع ہوا چاہتا ہے، ایک وہ وقت تھا جب کوئی بل ادانہیں کرپاتا تھا،دوائیں نہیں تھیں، مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتکارصنعت بند کرنے پر مجبور تھے۔ پاکستان دیوالیہ سے بچ گیا،دن رات کی محنت اللہ نےقبول کی، اس جدوجہد میں آرمی چیف اورہم سب کی کاوشیں قبول ہوئیں، جدوجہدمیں آرمی چیف اوران کے رفقا کا بھرپور تعاون رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالی توڈیفالٹ کی تلوارلٹک رہی تھی، کاروباری حضرات اور قوم خوفزدہ تھی، عدم استحکام عروج پر تھا،آئی ایم ایف بات سننے کو تیارنہ تھا، ایل سیزکھولنے کیلئے بھی مشکلات کاسامناکرنا پڑ رہاتھا، بجلی کارخانے چلانے کیلئے پیسے نہیں ہوتےتھے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کوڈیفالٹ پرلانےوالےخوشی سےمرےجارہےتھے، ان کویقین تھا کچھ ہوجائے پاکستان کوڈیفالٹ سےکوئی نہیں بچا سکتا، اُن کا یہ پختہ یقین تھاکہ پاکستان ڈیفالٹ ہوا کہ ہوا، اس میں یہ ٹولہ تمام حدیں پارکرگیا، انہوں نےآئی ایم ایف سے کیا اپنا معاہدہ توڑا، ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے دن رات کوشش ہورہی تھی،رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔