بھارت کی لوک سبھا میں 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی بل 288 ووٹوں سے منظور ہوگئی۔
بھارت میں مسلمانوں کی کھربوں روپے کی وقف املاک کو ہڑپنے کے لیے ہندو انتہا پسند مودی حکومت نے جمہوری اقدار کو روند کر ’وقف ترمیمی بل‘ لوک سبھا سے منظور کروا لیا۔
بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ بل سے وقف املاک کی بہتر نگرانی ممکن ہوگی تاہم اپوزیشن اراکین نے بل کو 'غیر آئینی' قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ بل اقلیتوں کے حقوق پر بڑا حملہ ہے۔
اپوزیشن نے بل میں غیر مسلم اراکین کی وقف بورڈ میں شمولیت کی تجویز دیدی ہے، بل سے وقف املاک پر حکومتی کنٹرول میں اضافہ ہوگا، مسلم تنظیموں کا خدشے کا اظہار کیا ہے۔
راہول گاندھی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بل اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے، وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے حقوق اور آئین پر حملہ ہے، جو مستقبل میں دیگر برادریوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
سونیا گاندھی نے ترمیم کو آئین پر "کھلا حملہ" اور بی جے پی کی جانب سے معاشرے کو مستقل تقسیم رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا، بھارت میں بل کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا بھی آغاز ہوگیا۔