وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ ملک میں ایچ آئی وی کیسز میں کوئی غیر معمولی اضافہ یا وبا نہیں ہے،اسلام آباد،کراچی اور تونسہ میں اس سال ایچ آئی وی کا کوئی نیا کیس نہیں آیا۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تونسہ کے جس کیس کا حوالہ دیا گیا وہ 2024 میں سامنے آیا تھا، اسلام آباد کے کیسز بھی پرانے ہیں،دیگر شہروں کے مریض بھی یہاں رجسٹرڈ ہیں،تینوں شہروں میں بچوں میں ایچ آئی وی سرنج کے دوبارہ استعمال سے پھیلا،10 سی سی سرنجز کے دوبارہ استعمال پر پابندی لگائی جارہی ہے ۔
وفاقی وزیرصحت نے کہا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر ایچ آئی اوی کے رجسٹرڈ کیسز 84 ہزار ہیِں،ایچ آئی اوی لاعلاج مرض نہیں ہے، یہ قابل علاج ہے، رجسٹرڈ مریضوں میں سے61 ہزارمریضوں کا علاج جاری ہے،گلوبل فنڈ نامی تنظیم ایڈز کنٹرول کیلئے پاکستان کو فنڈ دیتی ہے، 2024 سے 2026 تک ہمیں 65 ملین ڈالر فنڈ ملا، 65 ملین ڈالرز میں سے وزارت کو صرف 3.9 ملین ڈالر دیئے گئے،کوئی نظام نہیں کہ ہم اس 61.19 ملین ڈالر خرچ ہونے کا پوچھ سکیں۔





















