لندن میں منعقدہ AI انڈس ویک پاکستان ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان پائیدار اور اعتماد پر مبنی ڈیجیٹل تعاون کے لیے تیار، باصلاحیت اور پُرعزم ہے، اور ٹیکنالوجی شراکت داریاں مستقبل کے دوطرفہ اور کثیرالجہتی روابط کا بنیادی محرک ہوں گی۔
یہ باوقار تقریب برطانیہ میں قائم انوویشن سینٹر اور بزنس گروپ SK Hub UK کی میزبانی میں منعقد ہوئی، جس میں مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہرین، صنعتی رہنما، سرمایہ کار، کاروباری شخصیات، دولتِ مشترکہ کے نمائندگان اور برٹش پاکستانی کمیونٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں ہائی کمشنر نے پاکستان کے آئی ٹی ایکوسسٹم کی مضبوط بنیادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی اکثریتی نوجوان آبادی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی اور فری لانسنگ افرادی قوت، مسلسل اضافہ کرتی ٹیکنالوجی برآمدات اور ابھرتا ہوا اسٹارٹ اپ منظرنامہ پاکستان کی قدر میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ یہی بنیاد پاکستان کو محض کم لاگت آؤٹ سورسنگ مرکز سے ایک صلاحیت پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقل کر رہی ہے، جو عالمی منڈیوں کو اے آئی، فن ٹیک، ساس اور سائبر سکیورٹی کے حل فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک پاکستان کے لندن مرحلے کے دوران پاکستان نے ایک مستقبل بین وژن پیش کیا ہے جس میں ٹیکنالوجی کو معاشی تبدیلی اور خارجہ پالیسی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
ہائی کمشنر نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر منعقدہ گول میز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں قومی سطح پر اے آئی سے لیس ہیلتھ ڈیٹا فریم ورک، اے آئی انٹیگریٹڈ ای ایم آر سسٹمز کے پائلٹ منصوبے، ذمہ دار اے آئی گورننس، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور خصوصی افرادی قوت کی تیاری جیسے عملی نتائج سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کس طرح پاکستان کو ساختی مسائل پر قابو پانے اور دوطرفہ ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔





















