کراچی میں سندھ اسمبلی کے سامنے جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ جماعت اسلامی کے کارکنان رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھنے لگے تو پولیس نے انہیں روکنے کے لیے شیلنگ شروع کر دی۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شیلنگ جاری ہے، پولیس ذرائع کا کہناہے کہ سات سو سے زیادہ شیل فائر کرچکے ہیں، مزید دو ہزار شیل منگوالیے گئے ہیں۔ جبکہ کراچی پریس کلب، سندھ اسمبلی و اطراف میں بلیک آؤٹ کردیا گیا ہے۔
کچھ میں منعم ظفرکارکنان سے خطاب اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا کہناتھا کہ پیپلزپارٹی نے ہمارا راستہ روکا ہے،انہیں خمیازہ بھگتناہوگا، پرامن اور جمہوری لوگوں پر شیلنگ کی گئی، یہ ظلم ہے،ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں،ہم جینے کا حق مانگ رہے،پانی مانگ رہے ہیں، کارکنان ڈٹے ہوئے ہیں،پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا جارہاہے جبکہ ایس ایس پی ساوتھ نے قیدیوں والی وین بھی منگوالی ہے ، 10 افراد کو حراست میں لے لیا گیاہے ۔ پولیس نے مظاہرین کا ٹرک اور ساونڈ سسٹم ضبط کر لیاہے ،
اس سے قبل
پولیس انتظامیہ اور جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان ابتدائی مذاکرات بھی ناکام ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ انہیں احکامات دیے گئے ہیں کہ مظاہرین کو اسمبلی کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مارچ ختم کیا جائے کیونکہ آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب ایم پی اے محمد فاروق، نائب امیر کراچی مسلم پرویز اور دیگر رہنما سڑک پر بیٹھ گئے۔ محمد فاروق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن جماعت ہے اور وہ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کوئی تاج محل نہیں کہ وہاں جانا منع ہو، ہر شہری کو وہاں جانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ احتجاج کے دوران ایک گملا تک نہیں ٹوٹے گا۔
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم انتظامیہ سے بات چیت کے لیے روانہ ہوئی تاہم ترجمان کے مطابق مذاکرات کے لیے کوئی ذمہ دار موقع پر موجود نہیں تھا، جس کے باعث ٹیم سڑک پر ہی بیٹھ کر انتظار کرتی رہی۔ محمد فاروق نے کہا کہ جب تک راستہ نہیں دیا جاتا وہ سڑک پر ہی بیٹھے رہیں گے اور پرامن دھرنا جاری رکھیں گے۔
پولیس نے سندھ اسمبلی آنے والے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور اضافی نفری تعینات کر دی۔ ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق کارکنان مختلف اضلاع سے منظم قافلوں کی صورت احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں اور آج سندھ اسمبلی کے سامنے عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
ادھر پولیس نے جماعت اسلامی کے مظاہرین کو اردو بازار سگنل پر بھی روک دیا، جہاں بسیں لگا کر راستہ بند کیا گیا۔ اس مقام پر جماعت اسلامی کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔





















