قومی اسمبلی نے پاکستان شہریت ترمیمی بل ، بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل اور نیشنل آرکائیوز ترمیمی بل سمیت دیگر کئی اہم بلز منظور کر لیے جس کے بعد اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اہم قانون سازی کی گئی، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور ہو گیا۔ بل کے تحت شہریت سے متعلق قانونی طریقہ کار کو مزید واضح اور باقاعدہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ترمیمی بل میں پیدائش کے اندراج اور شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو قانونی شکل دینے، زیرالتوا درخواستوں اور مقدمات کے حل کیلئے رہنمائی فراہم کرنے اور عدالتوں میں زیرسماعت معاملات پر نئے طریقہ کار کے اطلاق کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ والدین کے الفاظ کی تشریح اور شہریت کے تعین سے متعلق ابہام دور کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ شناختی دستاویزات میں والد کی بجائے والدین کا اندراج کیا جائے گا۔
اجلاس میں بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل کے مطابق عدالتی فیصلے کی روشنی میں وفاقی کابینہ اجتماعی طور پر صرف پالیسی اور مالیاتی فیصلے کرے گی، جبکہ انتظامی معاملات میں اختیارات متعلقہ اتھارٹی کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی اجلاس میں پاکستان کے نام اور نشانات کے غلط استعمال کی روک تھام کا بل بھی منظور کر لیا گیا۔
قومی اسمبلی نے نیشنل آرکائیوز ترمیمی بل دوہزار چھبیس بھی کثرتِ رائے سے منظور کیا، جبکہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل کی بھی منظوری دے دی گئی۔ بل کے مطابق معمولی اور غیر پالیسی معاملات بھی بار بار کابینہ کو بھیجے جانے سے غیر ضروری بوجھ اور انتظامی تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ وفاقی کابینہ قومی پالیسی اور اسٹریٹجک امور پر توجہ رکھے، جبکہ انتظامی اختیارات کابینہ کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کو دیے جائیں۔ بل میں سپریم کورٹ کے مصطفیٰ امپیکس فیصلے کی روشنی میں اختیارات کی درست تقسیم کیلئے ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ایکٹ میں وفاقی حکومت کی جگہ وزیراعظم کے الفاظ شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ بعد میں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔






















