وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایوانِ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری ذمے داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ بلوچستان میں ضرورامن آئے گا ، ہم دہشت گردوں کو پانچ منٹ میں ختم کرسکتے تھے، مگر انہوں نے عوام کو شیلڈ بنایا ہوا تھا ۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر ہم انہیں ختم کرتے تو عوام بھی نشانہ بنتے ، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بلوچستان کے لوگ ان کے ساتھ ہیں ، صرف چند لوگوں نے دہشتگردوں کا ساتھ دیا ، بلوچستان کے عوام پاکستان کے ساتھ ہیں ، کسی بھی صورت میں بلوچستان پاکستان سے الگ نہیں ہوسکتا ، یہ ایک لا حاصل جنگ ہے ، موٹر سائیکل پر بیٹھ کر افغانستان سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا ، پورا پاکستان اس ایشو کا سامنا کررہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم نے کبھی سیاسی مذاکرات سے انکار نہیں کیا ، آئیے سیاسی مذاکرات کریں ، الیکشن کے اصلاحات پر بات کریں ، آئیے بیوروکریسی پر بات کریں فنڈ کی تقسیم پر بات کریں ، کیا جو ترقی کراچی میں ہے کیا وہ کشمور میں ہے ، جو ترقی لاہور میں ہے کیا وہ پنجاب کے دوسرے شہروں میں ہے ، یہ کسی اسمبلی ہے یہاں تو قانون سازی پر بات ہونی چاہیے ، کیا پنجگور اور نوشکی میں حملے نہیں ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان ہماری مائیں بہنیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا تشدد سے آزادی حاصل کی جاسکتی ہے، بلوچوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا جارہا ہے ، گوادر کے اندر خضدار سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو شہید کیا گیا ، مذاکرات کے لیے تیار ہوں مگر ان کے ساتھ نہیں جو بندوق کے زور پر مذاکرات چاہتے ہیں ، خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ 66 ارب روپے 5 سال میں گوادر پر لگ چکے ہیں ، دہشت گردی کو محرومی سے جوڑا نہیں جاسکتا ہے ، ایک مکتبہ فکر خیر بخش مری کا تھا جو کہتا تھا کہ پاکستان کو توڑنا ہے ، ایک مکتبہ فکر غوث بخش بزنجو کا تھا جو سیاسی جدو جہد پر یقین رکھتا تھا ، آپ کہتے ہیں اسمبلی کی بات سنی نہیں جاتی ، اس ہی اسمبلی کے کہنے پر ایف سی چیک پوسٹیں ختم کی گئی ، بلوچستان کے بچوں کا مستقبل اے آئی ہے ۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر محبت سے بات کریں تو محبت ملے گی ، اگر اخلاق سے بات کریں گے تو اخلاق ملے گا ، ایک ٹوئٹر سردار نے میری اور وزیر اعظم کی بے عزتی کی ، بشیر زیب اور اللہ نذر گینگ بھارت کی پراکسی ہیں ، کس تاریخ میں خواتین کو اس طرح استعمال کرنے کا لکھا گیا ہے ، یہ ریاست ہے تو ہم ہیں ، یہ ریاست ہے تو پارلیمنٹ ہے ، اس شیر کو ہیرو کس نے بنانا ہے جس نے خود کش بمبار کو ریڈ زون داخل ہونے سے روکا ، اس کو ہیرو ہم نے بنانا ہے اس اسمبلی نے بنانا ہے ، میں پورے بلوچستان کے لوگوں سے ذمے داری کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ بلوچستان کی سڑکیں بند نہیں ہوں گی ۔





















