وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کا معروض وجود میں آنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ آئینی عدالت سے قبل آئینی بینچ کام کررہا تھا۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب میں جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آئینی عدالت سے قبل آئینی بینچ میں کام کررہا تھا۔ 7 ماہ سپریم کورٹ میں فوجداری نوعیت کا کام کیا۔ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اسٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، یہ دیکھ کرافسوس ہواکہ سپریم کورٹ میں قتل کی اپیلیں سالوں سے زیرالتوا تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ ججز آئے روز آئینی معاملات میں الجھے ہوتے ہیں، اب یہ مسئلہ کافی حدتک حل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا وجود میں آنے کی متعدد وجوہات ہیں، ایک وجہ جوڈیشل ایکٹوزم بھی ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ نے بہت سے کیسز کے فیصلے اپنے اختیارات سے باہرجاکر کیے یہ الزام تھا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کا قیام 14 نومبر2025کو وجود میں آیا، ابتک آئینی عدالت نے2600کیسز کا فیصلہ کردیا ہے، آئینی عدالت میں جو کیسز دائر ہوتے ہیں کوشش ہوتی ہے کہ ان پرجلد فیصلہ کیاجائے۔




















