راولپنڈی میں مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں مجموعی طور پر 32 افراد شہید ہوگئے جبکہ دھماکے کے بعد اسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 150 سے زائد ہیں۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے کزن گلگت پولیس کے انسپکٹر بہادر علی بھی خود کش حملے میں شہید ہوئے ۔ انسداد پولیو پروگرام کے نیشنل ایڈوائزر ڈاکٹر الطاف بوسن کے بھائی فرمان بوسن بھی شہدا میں شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا،پولیس کا کہنا ہے کہ خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔
پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا۔
المناک واقعے کے فوری بعد وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ انہیں سخت ترین سزا دلوائی جا سکے۔ شہباز شریف نے وزیر صحت کو زخمیوں کو طبی سہولیات کی نگرانی کا حکم دیا۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق دھماکے کے بعد وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاقی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، امام بارگاہ دھماکا، اسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جارہی ہے، ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ افسوس ناک واقعے میں زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، پمز اور پولی کلینک سمیت تمام وفاقی اسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز مکمل فعال ہیں۔





















