وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ترلائی میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ماسٹرمائنڈ سمیت تمام ذمہ داروں کو پکڑلیا ۔ پلاننگ اور ٹریننگ داعش افغانستان نے کی۔ دہشت گردوں کی ساری فنڈنگ انڈیا کررہا ہے، وہی ان کو ٹارگٹس دیتا ہے۔ ہمیں اپنے سسٹمز کو اپڈیٹ کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ کل کا دن پورے پاکستان کیلئے غم کا دن تھا، پاکستان کےہرگھر میں اس غم کو محسوس کیا گیا، کل کے واقعے نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ خود کش دھماکے کے بعد تمام ایجنسیاں لیڈ میں نکلیں، کل رات آپریشن کئے جو پھر چلتے رہے، دھماکے کے فوری بعد پشاور اور نوشہرہ میں ریڈ کیا گیا، دھماکے سے جڑےتمام لوگ اور ماسٹر مائنڈ پکڑے گئے۔ جو ماسٹر مائنڈ تھا افغانی ہے وہ پکڑا گیا ہے، ہمارے کچھ لوگ زخمی ہوئے ایک اے ایس ائی شہید ہوا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس سارے واقعے کیلئے ٹریننگ افغانستان میں ہوئی ہے، حملہ آور کیسے ٹرینڈ کیا گیا،دھماکے کے بعد ٹریس کیا تو دیکھا یہ افغانستان گیا ہوا ہے، اس کی ٹریول ہسٹری نے سب بتا دیا، ہم پہلے ہی کہہ چکے، ٹی ٹی پی داعش سب مل کر کام کر رہے ہیں، دنیا کی 21 دہشتگر تنظیمیں افغانستان میں کام کر رہی ہیں، ہمارے ملک میں جو دہشتگردی ہو رہی ہے افغانستان سے ہو ری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد کو نشانہ بنانے کیلئے پہلے انہوں نے ریکی کی، ہم حالت جنگ میں ہیں وہ چاہے بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا ، ہماری سیکیورٹی ایجنسیز 99 فیصد دھماکے روک رہی ہیں، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک دھماکا ہو رہا ہے تو 99 روکے جا رہے ہیں۔ ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن کسی جگہ ایک اِنچ بھی ان کا قبضہ نہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دنیا نے مانا ہے کہ بی ایل اے دہشت گرد تنظم ہے، جب جنگ ہوتی ہے تو پھر کیٹگری نہیں بنتی، دشمن ہے تو دشمن ہے، ہم کلئیر ہیں اس حوالے سے جو دشمن ہے وہ دشمن ہے، ہم اس جںگ کو لڑتے رہیں گے، دنیا کو اسے سمجھنا چاہیے، یہ جنگ اب ریجنل جنگ بنتی جا رہی ہے، دنیا کو اس کو دیکھنا چاہیے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی کے بعد انڈیا نے فنڈنگ 3 گنا بڑھا دی ہے، ٹی ٹی پی ، داعش کو جو500 ڈالر دے رہے تھے اب 1500 دے رہے ہیں، یہ تمام پیسے انڈیا دے رہا ہے،دعوے سے کہہ رہا ہوں ایک دن دنیا بھی کہے گی،، انڈیا کو پتا ہےوہ کسی اور طرح تو جنگ نہیں جیتا سکتا ،ایسا کرکے بھی جیت نہیں سکیں گا۔ دہشت گردی کے آگے ہم شہادتیں دے کر دیوار بنائی ہے، جب یہ جنگ باقی دنیا تک پہنچے گی تو اُن کو پتا چلے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہمیں کمیونٹی کی انٹیلی جنس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، عوام سے درخواست ہیں کہ کوئی اجنبی شخص رہ رہا ہے تو پولیس کو بتانا ہوگا، ہمیں اسلام آباد اور باقی جگہوں پر بھی کام کرنا ہے۔





















