راولپنڈی کے مصافاتی علاقےترلائی کلاں میں مسجد میں خودکش دھماکے میں 31 نمازی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ خودکش دھماکے پرقومی قیادت افسردہ ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت، ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفت میں لینے کا حکم دیا۔
المناک واقعے کے فوری بعد وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ انہیں سخت ترین سزا دلوائی جا سکے۔
چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نہتےشہریوں کونشانہ بنانا انسانیت، دین اورقومی ضمیرپرحملہ قراردیا ۔ حکومت سے ملک بھرمیں عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثراقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
صدر آئی پی پی اوروفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ کہا پوری قوم فتنہ الخوارج کے خلاف متحد اورسیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔
سربراہ ایم کیوایم خالد مقبول صدیقی نے بھی متاثرین کےساتھ اظہاریکجہتی کی۔ کہا نیشنل ایکشن پلان پر موثر عملدرآمد،صوبوں اوروفاق کے لئے پہلے سے زیادہ لازم ہو چکا۔ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنرز سمیت دیگر شخصیات نے بھی خود کش دھماکے کی شدید مذمت کی۔






















