گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے2ارب ڈالر رول اوورکوئی مسئلہ نہیں۔ ستمبر2027ءتک دوست ممالک کے ڈالر ڈپازٹس رول اوور ہوتے رہیں گے۔
اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس کراچی میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان بیرونی قرض وسودادائیگی کی مدمیں6ارب ڈالرادا کرچکا، سال کے باقی مہینوں میں4.5ارب ڈالر ادائیگی کا پورا انتظام موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ پر بہت سخت ہاتھ ڈالا، منی چینجرز اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ تھے، منی ایکسچینج کمپنیز کو بند کردیا،اب ملک میں26ایکسچینج کمپنیز رہ گئیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئندہ2سال تک پاکستان کے معاشی اشاریے اور بہترہوتے نظر آرہے ہیں، شرح سود کم ہونے سے حکومت کومالی فائدے کا تاثر پوری طرح درست نہیں، بینکوں پرواضح کردیاہےکہ ٹریڈبیس منی لانڈرنگ نہیں کرنےدیں گے۔
جمیل احمد نے کہا کہ حکومت کو ملائیشیا کی طرز پر اسلامک بینکنگ کا ماڈل بناکردیاہے، حکومت سے کہاہے ایسٹ پول بنا کر اسکے عوض سکوک بانڈجاری کرکےحکومت قرض لے، میراگھرمیراآشیانہ اسکیم کی لمٹ میں آئندہ بجٹ میں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے کرنسی ڈیزائن کے نوٹ عید پر دستیاب نہیں ہوں گے، کابینہ کےپاس ڈیزائن موجود،منظوری کےبعدپرنٹنگ اسٹاک میں وقت لگےگا۔ 3 ممالک کے بڑے بینکس نے پاکستان میں اپنے بینکس کھولنے کےلئے خواہش کا اظہار کیاہے، رواں مالی سال ترسیلات زر42ارب ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔



















