وفاقی آئینی عدالت نےسو سال سےزائد پرانا اراضی انتقال ریکارڈ میں درج کرنےسےمتعلق درخواست مسترد کردی۔
وفاقی آئینی عدالت کےفیصلےکےمطابق سول کورٹ نےدرخواست گزاروں کے حق میں انتقالات کی ڈگری ایک صدی قبل جاری کی تھی،1907 اور 1913 کے اراضی انتقالات کو سرکاری ریکارڈ میں درج کروانےکیلئے 2020 میں رجوع کیا گیا،درخواست گزاروں کے بزرگ 2020 تک خاموش کیوں رہے؟ ایک صدی کے دوران اس زمین کے کئی نئے مالک بن چکے ہوں گے جن کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔
عدالت نے قراردیا کہ معاملہ پیچیدہ ہو اورشواہد کی ضرورت ہو تو ہائیکورٹ رٹ پٹیشن میں اس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،اب ریکارڈ میں تبدیلی کو محض معمولی غلطی قرار دے کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کےمطابق ریونیوحکام صرف وہی غلطی درست کرسکتے ہیں جس پرکوئی بڑا تنازع نہ ہو، زمین کی اصل ملکیت کا فیصلہ کرنا صرف دیوانی عدالت کا کام ہے ۔





















