وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل ازخودنوٹس کیس نمٹا دیا، جسٹس عامرفاروق اورجسٹس روزی خان پرمشتمل بینچ نےفیصلہ سنایا۔ جسٹس عامرفاروق نے 14 صفحات پرمشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے۔
فیصلے کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان ایم ایل اے پر دستخط ہوچکا ہے، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں، ازخودنوٹس کیس اورتمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں ممالک سفارتی سطح پر رابطے میں ہیں، دونوں ممالک متعلقہ قوانین کے تحت اقدامات کررہے ہیں، قانون کے تحت تفتیش جاری ہے،مداخلت کی ضرورت نہیں۔
عدالت نے کہا کہ تحقیقات کی نگرانی یا مسلسل التوا ملزمان کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے۔ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی پر کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا۔ ملزمان کی گرفتاری اور ٹرائل کے لیے بلیک وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
عدالت نے بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ وفاقی حکومت پر چھوڑ دیا۔ فیصلے کے مطابق تحقیقات کی رفتار کینیا کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی اور خودمختار ریاستوں کے قوانین کے تابع ہے۔
فیصلے کے مطابق ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، ورثا کسی بھی معاملےپرمتعلقہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔





















