مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے لگے۔ ایران اور امریکا کےدرمیان ایٹمی پروگرام پر مذاکرات پر اتفاق ہوگیا۔
جنگ کی دھمکیوں کے بعد امن کی باتیں ایران اور امریکا کے درمیان برف پگھلنے لگی۔ دونوں ملک ایٹمی پروگرام پر بات چیت کیلئے رضامند ہوگئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق دونوں ملک جمعے کو استنبول میں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکوف ملاقات کریں گے۔
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کے کہنے پر مذاکرات کی امریکی پیشکش پر غور کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ کو ہدایات دی ہیں۔ وزیر خارجہ کو بات چیت کیلئے ماحول سازگار بنانے کی ہدایت کی ہے۔ مذاکرات میں ایران کے قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی عزت سے پیش آئے تو ہم بھی عزت دیں گے۔ دھمکیوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ سازش ناکام ہونے کے بعد امریکا پھر سے مذاکرات کے میز پر آگیا۔
امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کی تصدیق کردی، وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ مذاکرات کامیاب ہوجائیں تو سب کیلئے بہتر ہے۔ ورنہ بہت برا ہوگا۔





















