قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
قرارداد کے متن کے مطابق ریاست ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اصول پر فیصلہ کن کارروائی کرے ۔ قرارداد میں زور دیا گیا کہ دہشتگردی کیخلاف سیاست سے بالاتر ہوکر قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق دہشت گردوں کی بیرونی سرپرستی کے واضح شواہد ہیں ۔ ایوان مطالبہ کرتا ہے بیرونی سرپرستوں، اندرونی سہولت کاروں، فنڈنگ اور پروپیگنڈا کے خلاف فوری جارحانہ، مربوط اور مؤثر قومی ردعمل یقینی بنایا جائے۔
قرارداد کے مطابق ریاست اپنے عوام کے تحفظ، امن اور قومی سلامتی کو بر صورت یقینی بنائے گی ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردوں نے نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کو ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے ریاست اور معیشت کےخلاف استعمال کرنےکی کوشش کررہے ہیں ۔ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں کشمیری عوام سے اظہاریکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی ۔ کشمیری عوام کے حق خودارادیت ارادیت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔
قرارداد میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم بھی کیا گیا ۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی شدید مذمت کی گئی ۔






















