سپریم کورٹ نےپولیس نظام میں نوآبادیاتی طرزِ تحریر مسترد کرتےہوئےدرخواستوں میں ایس ایچ او کو “بخدمت جناب”لکھنے پر پابندی عائد کر دی۔
سپریم کورٹ نے پولیس سسٹم میں انگریز دورکا طرز تحریرختم کرنے کیلئے اہم فیصلہ کیا ہے،آئندہ ایف آئی آر میں تھانیدارکیلئےبخدمت جناب کا القاب نہ لکھنےکا حکم دیدیا،ایف آئی آردرج کروانےکیلئے فریادی کا لفظ استعمال کرنےکی بھی سختی سےممانعت ہوگی،جرم کی اطلاع ملنے کے بعد ایف آئی کے اندراج میں تاخیر پر پولیس کے خلاف سخت کارروائی کی واررننگ دیدی ۔
عدالت نےقراردیاکہ تھانیدار عوام کا خادم ہے،عوام اسکےنوکرنہیں،اس لئے ایف آئی آرمیں اس کیلئے بخدمت جناب کےبجائے صرف “جناب ایس ایچ او”لکھا جائےگا،پولیس کےنظام میں غلامانہ زبان کا خاتمہ ہونا چاہیے، فیصلےکےمطابق ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ ہو گا،جبکہ کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود رہےگی،عدالت نےپولیس کی کارروائی میں فریادی کا لفظ ممنوع قرار دیتے ہوئےکہا اس سے رحم مانگنے کا تاثر ملتا ہےحق حاصل کرنےکا نہیں ۔
فیصلےمیں کہاگیاکہ ایف آئی آر کےاندراج میں تاخیرناقابلِ قبول ہے،کیونکہ اس سےشواہدضائع ہونےکا خدشہ ہوتا ہے،پولیس کی جانب سےایف آئی آردرج کرنےمیں تاخیرکی صورت میں پینل کوڈ کےتحت مقدمہ بھی بن سکتا ہے،اہم فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نےتحریرکیا،جس میں ٹنڈو غلام علی میں قتل کیس کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل کو بھی مسترد کر دیا گیا ۔





















