لاہور بھاٹی گیٹ واقعے پر جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ پر مبینہ تشدد کے معاملےکی وزیراعلیٰ پنجاب کےحکم پر انٹرنل کاؤنٹیبلٹی برانچ آئی سی بی نے تحقیقات مکمل کر لیں۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق دونوں پولیس افسران غلام مرتضیٰ کو ایس ایچ او کے کمرے میں غیر قانونی طور پر تقریباً 4 گھنٹے تک حراست میں رکھ کر تشدد کرتے رہے،ایس ایچ او کے کمرے میں نصب کیمرے کی ویڈیو شواہد کے طور پر حاصل کی گئی،جس سے واقعے کی تصدیق ہوئی۔
غلام مرتضیٰ نےبیان دیا کہ پولیس افسران نےاس پردباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی اوربیٹی کےقتل کا الزام قبول کرے،انکوائری ٹیم نے ملزم کو شورکوٹ لے جا کر اس کا بیان بھی ریکارڈکیا، رپورٹ میں دونوں پولیس افسران کی غیر پیشہ ورانہ کارروائیوں کاذکرکیاگیااورانکے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کردی گئی،جو وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی جائے گی،میڈیا پرغلام مرتضیٰ پر تشدد کی خبرنشرہونے کےبعد ایس ایچ اوکومعطل بھی کیا جاچکا ہے،ملزم پولیس افسران نےانکوائری میں بیان دیاکہ انہیں ریسکیو اوردیگر اداروں نےبتایا تھاکہ خاتون کا ڈوبنا ناممکن ہے،اسی لیےشبےمیں غلام مرتضیٰ کو تھانے لے جایا گیا۔
دوسری جانب سانحہ بھاٹی گیٹ کےحوالے سے متضاد معلومات میڈیا تک کیسے پہنچیں ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں اعلی سطح کمیٹی تشکیل دیدی گئی،کمیٹی پولیس سمیت مختلف محکموں کے افسروں سے پوچھ گچھ کرےگی۔





















