وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اہم منصوبوں سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں این ایچ اے کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن کا وزیرِ اعظم جلد افتتاح کریں گے۔ بریفنگ میں بتایا کیا گیا کہ کوہاٹ جھنڈ، پنڈی گھیپ اور اولڈ بنوں روڈ کی شاہراہیں مکمل کر لی گئی ہیں۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ انڈس ہائی وے این-55 کے کوہاٹ سیکشن اور پشاور ناردرن بائی پاس جون 2026 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ اسی طرح شاہراہ این-140 چترال۔شندور اور شندور۔گلگت سیکشن کی تکمیل دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات کو بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شاہراہوں کی تعمیر و مرمت سے متعلق ادائیگیاں چیئرمین این ایچ اے کے سائٹ وزٹس کے بعد کی جائیں گی ۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے این ایچ اے حکام کو منصوبوں میں غیر ضروری ادائیگیوں پر سخت کارروائی کی ہدایت کی جبکہ خیبر پختونخوا میں کوہاٹ کی شاہراہ (N-55) پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کا حکم دیا ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات نے جاری کاموں کے معائنے کے لیے جلد خیبر پختونخوا کے دورے کا فیصلہ کیا ۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ منصوبوں کی تکمیل میں التواء لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، چیئرمین این ایچ اے فوری طور پر کیش فلو کی ضرورت والے منصوبوں کی فہرست فراہم کریں۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ این ایچ اے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ زیر التواء امور کو فوری "ٹیک اپ" کرے، انہوں نے کہا کہ تمام ممبران این ایچ اے بورڈ سے ترقیاتی امور کی باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔ اجلاس میں فارن فنڈز منصوبوں کے لئے بہتر حکمت عملی بنانے کی ہدایت بھی کر دی گئی ۔





















