وزیراعلیٰ مریم نوازنے کہاہے کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، نوجوانوں کو با اختیار بنانا ترجیح ہے، آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، گلف میں سب سے مشکل جاب پاکستانی کرتے ہیں، پنجاب کی خواتین کیلئےہم نے پروگرام شروع کیا، اسکلز پروگرام سے 2 لاکھ سے زائد بچوں کو ٹریننگ ملی، بہت سارے بچے ٹریننگ کے بعد پرواز کرنے کو تیار ہیں، پرواز کارڈ سے 3 لاکھ فی بچہ جو ٹرین ہوا ہے، بہت سے بچے ای بزنس شروع کر کےکما رہے ہیں، شیخوپورہ میں ہم نے گارمنٹس سٹی بنائی ہے،ایک ہزاربچوں کو ٹرین کیا ہے۔
مریم نواز کا کہناتھا کہ سعودی عرب سے 45 ہزار جابز کی ڈیمانڈآئی ہے، جن بچوں کو ٹرین کر رہےہیں ان کو باہربھی بجھوا رہے ہیں، جن بچوں نے ٹریننگ حاصل کیں وہ آج کما رہے ہیں، ہم نے موبائلز لیب بنوائی تاکہ لوگوں کو ریاست کے پاس نہ آناپڑے، پنجاب میں لوگوں کا ان کے گھروں کی دہلیز پر علاج ہوتا ہے، واسا پنجاب میں گھروں کو فری پانی فراہم کر رہا ہے، خواتین کیلئے ہم نے موبائلز پولیس اسٹیشنز بنا دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مقصد تھا کہ ریاست خودچل کر عوام کے پاس جائے، پاکستان کی لیبر کو جوکام بھی ملتا ہے کرتے ہیں ، مجھے یہ سننے کا شوق ہے کہ پاکستان کی ورک فورس بہت زیادہ اسکلڈ ہے، میں نہیں چاہتی کہ کوئی کہے پاکستان کی لیبرسب سے سستی ہے، ان اسکلڈ ہونے کی بچوں کو بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے، چاہتی ہوں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک سطح پر ایک پہچان ہو، خواجہ سرا بہت بڑی کمیونٹی ہے،ان کاہاتھ پکڑنا پڑے گا، خواجہ سراوں کیلئے جو مجھ سے ہوا میں کروں گی، مزدور بھی محنتی ہیں مگران کی اجرت کم ہوتی ہے، ہم نےبرین ڈرین نہیں برین گرین کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پرواز کارڈ سے ہم 3لاکھ روپے دیں گے، 3لاکھ روپے کا قرض سود فری ہو گا، ہم نے ایکسپورٹ بڑھانی ہے، سب سے بڑی ایکسپورٹ شاندار ذہن ہیں جو ہم ایکسپورٹ کر سکتے ہیں، پروازکارڈ،50ہزار نوجوانوں کو بلاسود قرض فراہم کریں گے، ریاست نوجوان کو مواقع تک لے کر جائے گی۔






















