قومی اسمبلی کے ترجمان نے سرکاری خرچ پر ارکان کی عمرے یا حج کے حوالے سے خبروں پر وضاحت جاری کی ہے۔
ترجمان کےمطابق سرکاری خرچ پر ارکان کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے،قومی اسمبلی کی قرارداد کے تحت ہر سال 2 ویں اور 21 ویں ربیع الاول پر ایک وفد روزہ رسول میں شرکت کے لیے جاتا ہے، لیکن وفد کے تمام ارکان اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔
ایس او پیز کے مطابق وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور کی سہولت فراہم کرتی ہے اور کسی بھی مالی اخراجات کی ذمہ داری نہیں اٹھاتی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سرکاری خرچ پر ایسے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے، لیکن ایسی کسی تجویز کی منظوری کبھی نہیں دی گئی۔
خیال رہےکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور میں انوکھا مطالبہ سامنے آیا،کہ ہر سال ربیع الاول میں حجاز مقدس جانے والے پارلیمانی وفد کی تعداد 7 سے بڑھا کر 10 کردی جائے،اور اس کے اخراجات آئندہ ارکان کے بجائے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ برداشت کرے۔
کمیٹی چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے تاویل پیش کی وفد پر سرکاری خرچ کا غریب عوام پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا بلکہ انکی دعاؤں سے ملک ترقی کرے گا۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن نےسفارش کی کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو بھی کوٹہ ملنا چاہیئے کہ وہ 10 افراد کو حج پر بھجوا سکے،کمیٹی کے تمام ارکان نے اس تجویز کی تائید کی ۔
وفاقی وزیرمذہبی امور سردار یوسف نے کہا اس سال تو حج کوٹے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ۔ 2027 میں تجویز پر عمل کیا جا سکتا ہے






















