چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ اگرمقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونےکا بھی کوئی جواز نہیں بنتا،یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہےکہ پنجاب میں دو ہزار اکیس سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے
الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کی۔
چیف الیکشن کمشنر نے اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت دی کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی الیکشن کمیشن کی کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرے اور دونوں کمیٹیاں دس فروری تک اپنا کام مکمل کریں۔
چیف الیکشن کمشنر نےخبردارکیا کہ اگر مقررہ ٹائم لائن پرعمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لےگا،ضرورت پڑنے پر بیس فروری کو وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے،اورہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ وزیر اعلیٰ کو طلب کر کے یہاں بٹھانا پڑے۔
سماعت کےدوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نےبتایاکہ معاملہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی میں گیا جہاں تاخیر سےنمٹایا گیا،یونین کونسلز اورٹاؤنزکی ڈیمارکیشن پراعتراضات دورکیےجارہےہیں اور 26 جنوری تک ڈیمارکیشن مکمل کر لی جائے گی۔
چیف سیکرٹری پنجاب نےبتایا کہ بعض مجبوریوں کےباعث ایک سے سوا ماہ کی تاخیر ہوئی،جس کی بڑی وجہ اربن اوررورل علاقوں کی نشاندہی کا تنازع ہے،ہرکوئی چاہتا ہےکہ اس کا علاقہ اربن قراردیا جائے، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کےمطابق بلدیاتی الیکشن رولزکو دوبارہ ڈرافٹ کرلیا گیا ہےاور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد انہیں نوٹیفائی کردیاجائے گا۔
چیف سیکرٹری پنجاب نےمزیدبتایا کہ پہلےمنظوری کا اختیاروزیراعلیٰ کے پاس تھا،تاہم اب یہ اختیار صوبائی کابینہ کے پاس ہے،الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اضلاع کی حد تک ڈیمارکیشن کےسوا تمام تیاریاں مکمل ہیں اورمزیدتاخیرنہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن نےکیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔






















