عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فنچ ‘ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار رکھی گئی ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کیلئےریکوری ریٹنگ بھی مقررکردی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی کا اسکور کمزور ہے۔
پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا کہ سیکیورٹیزمیں سرمایہ کاروں کو 31 سے 50 فیصد تک رقم واپس ملنے کا امکان ہے، فچ کے مطابق پاکستان کی آؤٹ لک مستحکم ہے، ڈیفالٹ کی صورت میں پاکستان کےقرضوں میں اوسط درجے کی ریکوری متوقع ہے۔ اس کی وجہ حکومتی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا زیادہ ہونا ہے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام ،قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے گورننس کا اسکور بھی کمزور ہے۔ عالمی بینک گورننس انڈیکس میں پاکستان بائیس فیصد کی سطح پر ہے۔ فچ رپورٹ کے مطابق حکومتی قرض اورسود کی ادائیگیوں میں کمی نہ ہونےسےریٹنگ متاثرہوتی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر یا بیرونی مالی دباؤ میں اضافہ بھی وجوہات میں شامل ہے۔ فچ نے پندرہ اپریل دوہزار پچیس کو پاکستان کی ریٹنگ ٹرپل سی پازیٹو سےبڑھا کربی نیگٹوکی تھی۔





















