پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ایوانِ صدر کے سوئمنگ پول کی مرمت کیلئے 50لاکھ روپے کی غیرمجاز ادائیگی کا انکشاف ہواہے ، آڈٹ اعتراضات پر اُس وقت کے ملٹری سیکریٹری کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا گیا۔
پی اے سی ذیلی کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن شاہدہ اختر کی زیر صدارت ہوا، جس میں 2013-14 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ ایوانِ صدر میں سوئمنگ پول کی مرمت کیلئے 50 لاکھ روپے کی غیرمجاز ادائیگی کی گئی حالانکہ جنریٹرز اور سوئمنگ پول کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سی ڈی اے کی تھی۔
آڈٹ حکام کے مطابق اُس وقت کے ملٹری سیکریٹری نے صدرِ مملکت سے گرانٹ لے کر مرمت کرائی، جبکہ ایوانِ صدر سیکریٹریٹ کو ہنگامی گرانٹ سے کی گئی ادائیگی غیر قانونی تھی۔آڈٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اخراجات کے ثبوت، بلز اور انوائسز فراہم نہیں کیے جا سکے اور ادائیگی کنٹیجنٹ گرانٹ کے منظور شدہ مقاصد میں شامل نہیں تھی۔حکام کے مطابق ریکارڈ کے حصول کیلئے ملٹری سیکریٹری کو کئی بار خطوط لکھے گئے مگر اخراجات کے واؤچرز کا مسئلہ تاحال برقرار ہے۔کمیٹی نے اس وقت کے ملٹری سیکرٹری کو آئندہ اجلاس میں ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔





















