پنک سالٹ کی پیداوار بڑھانے اور آمدن میں اضافے کیلئے اہم اقدام اٹھا لیا گیا، پنک سالٹ کو خام مال کے بجائے عالمی مارکیٹ میں برانڈ کے طور پر فروخت کیا جائے گا، کاروبای طبقے کو ترغیب کیلئے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ نے منصوبہ تیار کر لیا ہے، سی ایم پنجاب ویلیوایڈیشن فنانس فارپنک سالٹ منصوبے کے تحت پانچ ارب کے بلاسودقرضے دیے جائیں گے ، کاروباری طبقہ کوبلاسود قرضے دینے کے لیے سمری منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو ارسال کردی گئی۔
سمری میں لکھا گیا کہ دنیا بھر میں نایاب پنک سالٹ صرف پنجاب میں ہی پایا جاتا ہے،آسان قرضوں سےپنک سالٹ کے کاروبارمیں اضافہ ہو گا ، روزگار کا مواقع بڑھیں گے،عالمی ممالک میں پنک سالٹ کی فروخت سے زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا ۔
سمری کے مطابق پنجاب کے اضلاع میانوالی ، خوشاب، چکوال ، اور جہلم میں پنک سالٹ کے قدرتی ذخائر موجود ہیں ،پنک سالٹ کا عالمی منڈی میں لوکل برینڈنگ سے فروخت کیا جائے گا ،صوبائی کابینہ نے قائد آباد میں اسپیشل منرل پروسیسنگ زونز کے قیام کی منظوری دے رکھی ہےصوبائی کابینہ نے پنک سالٹ کے خام حالت میں فروخت پر بھی پابندی عائد کررکھی ہے۔





















