ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر قابو پالیا گیا، پولیس حکام کے مطابق اب تک فائر فائٹر سمیت 26 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہیں، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس
تفصیلات کے مطابق پولیس حکام کا بتانا تھا کہ عمارت میں سے 26 افراد کی لاشیں ملی ہیں، بیشتر لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، 70افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے ، لاپتہ 32 افراد کے موبائل نمبر ٹریس کئے گئےتو آخری لوکیشن گل پلازہ آئی، ان 32 افراد کے موبائل نمبر گل پلازہ میں ہی بند ہوئے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ32افراد پلازہ میں موجود ہیں، کچھ افراد کے اہلخانہ نے موبائل نمبرز شیئر نہیں کئے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی
گل پلازہ سانحے سے متعلق کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے بتایا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے، اب تک 26 لاشیں عمارت سے نکالی جا چکی ہیں جبکہ 13 لاشوں کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔
کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ ڈی این اے پروفائلنگ اور لاپتہ افراد سے متعلق کام جاری ہے، بعض لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے بعد ممکن ہو سکے گی۔ سانحے میں 75 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے ہیں۔
سید حسن نقوی کے مطابق پلازہ میں ہائی فلیم ایبل سامان موجود تھا اور آگ کی شدت غیر معمولی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اپنی زندگی میں ایسی آگ نہیں دیکھی‘‘۔
کمشنر کراچی نے بتایا کہ واقعے سے متعلق اب تک جمع کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جبکہ دو سے چار روز میں مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فوکس ریسکیو آپریشن پر ہے، انکوائری میں جو حقائق سامنے آئیں گے وہ عوام کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا رہا، تاہم اگر کریمنل حرکت کے شواہد ملے تو سخت کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ
ڈی آئی جی ساتھ کا کہنا تھا کہ اب تک 6 لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ باقی کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی، 32 لاپتا افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ ہی معلوم ہوئی ہے، جبکہ باقی لاپتا افراد کا ڈیٹا اینلائز کیلئے حاصل کیا جا رہا ہے، آگ پر قابو پا لیا گیاہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے۔
گل پلازہ کے اطراف سے متاثرین سمیت تمام عام افراد کو ہٹا دیا گیا، سیکیورٹی اداروں نے گل پلازہ کے اطراف عوام کا ہجوم ختم کروادیا گیا، متاثرین کو صرف شکایات کیمپ تک آنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
شاپنگ مال میں کام کرنے والا عارف کل رات سے لاپتا ہیں، شادی کی خریداری کیلئے آئی ایک ہی خاندان کی 4 خواتین لاپتا ہیں۔ 1200 دکانوں پر مشتمل پلازہ کا گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں ۔ بالائی دو منزلیں بھی راکھ ہو گئیں۔ مخدوش عمارت کے متعدد حصے زمیں بوس ہوگئے۔ کسی بھی وقت پوری عمارت گرنے کا خدشہ ہے۔
لاپتا نوجوانوں کے اہلِ خانہ کی دل دہلا دینے والی گفتگو
لاپتا نوجوان کے والد نے بتایا کہ بیٹے سے آخری بار رات ساڑھے نو بجے رابطہ ہوا تھا۔ بیٹا دکان بند کرکے واپس نکل آیا تھا، تاہم آگ لگنے کی اطلاع ملنے پر دوست کو بچانے کے لیے دوبارہ مارکیٹ گیا اور اس کے بعد لاپتا ہوگیا، والد نے کہا کہ میرا بیٹا دوسروں کو بچانے گیا اور خود ہی لاپتا ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک اور متاثرہ نوجوان کے بھائی نے سماء سے گفتگو میں بتایا کہ اس کے بھائی انس کی گل پلازہ میں کھلونوں کی دکان تھی۔ بھائی کے مطابق آخری بار انس سے رات 11 بجکر 20 منٹ پر بات ہوئی، جس میں انس نے کہا کہ دھوئیں کے باعث دم گھٹ رہا ہے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا، مجھے لینے آؤ۔
متاثرہ بھائی نے مزید بتایا کہ انس کا موبائل نمبر رات 3 بجے تک آن رہا جس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔ اہلِ خانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ریسکیو اور تلاش کا عمل مزید تیز کیا جائے تاکہ لاپتا افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔
اموات 50 سے زائد ہونے کا خدشہ
سانحہ گل پلازہ میں اموات پچاس سے زائد ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دے دی۔ کمشنر کراچی نے دوران بریفنگ کہا کہ گل پلازہ سے 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، ہلاکتیں 50 سے زائد ہونے کا خدشہ ہے، آگ بجھا دی گئی،کولنگ کا عمل جاری ہے۔
صوبائی حکومت نے گل پلازہ دوبارہ بنانے کا اعلان اور آتشزدگی کی فزانزک کرانے کا فیصلہ کیا۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم ہوگی۔ معاوضہ اور متاثرین کی بحالی پر سفارشات دے گی۔
مراد علی شاہ نے وزراء کو شہداء کے گھر جاکر تعزیت کی ہدایت کی اور کہا فائر فائٹنگ اور حفاظتی نظام کا طویل مدتی پلان بنایا جائے گا ۔۔ ایمرجنسی راستوں اور فائر الارمز کو یقینی بنایا جائے۔
تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں آگ سے تاجروں کا تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔ ہر دکان میں 25 سے 30 لاکھ روپے کا مال تھا ۔ شادیوں کا سیزن ہے اور عید قریب ہے ۔ حکومت متاثرہ تاجروں کےلیے بولٹن مارکیٹ طرز کے پیکج کا اعلان کرے۔



















