سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں گل پلازہ آتشزدگی، پاسپورٹ اور نادرا ڈیٹا لیکس، پولیس کی ناقص کارکردگی اور ایف بی آر میں مبینہ کرپشن جیسے سنگین معاملات پر بحث ہوئی، آئی جی سندھ کی مسلسل غیر حاضری پر ارکان نے سخت برہمی کا اظہارکیا۔ اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ، ۔ دوستین ڈومکی نے کہا کہ ان کی گاڑی یواے ای رجسٹرڈ ہے، ایم ٹیگ لگوانے کیلئے امارات کے ولی عہدکو لانا پڑے گا۔
سینیٹر فیصل سلیم کی زیرصدارت اجلاس کا آغاز گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق افراد کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سندھ میں قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ڈی جی پاسپورٹ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاسپورٹ ڈیٹا چوری اور جعلی معلومات کے ذریعے بیرون ملک جانے کے کیسز سامنے آئے، تاہم 2023 کے بعد ڈیٹا ہیکنگ پر قابو پا لیا گیا۔
سینیٹر طلحہ محمود نے نادرا پر افغان شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔ سینیٹر افنان نے بتایا کہ نادرا اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت ہو رہا ہے۔ اجلاس میں ایک مقتول شہری کے والد نے پولیس کی نااہلی اور بااثر ملزم کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی دہائی دی۔ چیئرمین کمیٹی نے متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر ایف بی آر میں کرپشن کے الزامات پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے بتایا کہ اب تک ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزارگاڑیوں نے ایم ٹیگ لگوائے ہیں، اب ہم انفورسمنٹ کی طرف جا رہے ہیں۔ سینیٹر دوستین ڈومکی نے کہا کہ ان کی گاڑی یواے ای میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کوایم ٹیگ لگوانےامارات کےولی عہدکو لانا پڑے گا۔






















