پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے سپیلش اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لینے کی منظوری دیدی اور وزیراعظم نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی سمری پر دستخط کر دیئےہیں۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو آرٹیکل 89(2) کے تحت آرڈیننس واپس لینے کا مشورہ دیا گیاہے ، وزیراعظم نے صدر مملکت کو ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس بھیج دی ۔
اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس قومی پالیسی سےہم آہنگ نہ ہونے پر واپس لیا گیا، پیپلزپارٹی نے آرڈیننس جاری ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس تو واک آؤٹ کیا تھا۔
اصل کہانی
ذرائع کے مطابق مذکورہ آرڈیننس 6 دیگر بلز اور 1 آرڈیننس کے ہمراہ ایوان صدر کو بھجوایا گیا تھا، سمریوں اور فائلوں کی منظوری ای آفس کے ذریعےدی جاتی ہے، ایوان صدر نے ای آفس کے ذریعے اجتماعی طور پر تمام بلز اور آرڈیننسز کی منظوری دی۔
ای آفس منظوری کے تناظر میں آرڈیننس جاری کر دیا گیا تھا، ایوان صدر سے فائلیں واپس پہنچی تو مذکورہ آرڈیننس پر صدر کے دستخط موجود نہیں تھے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ایس ای زیڈ آرڈیننس اب واپس لے لیا گیا ہے، ایس ای زیڈ آرڈیننس کو اب بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔
اس سے قبل
اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے اجرا کے بعد قومی اسمبلی میں صورتحال متنازع ہو گئی تھی ، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ہونے پر شدید اعتراضات اٹھائے اور ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا ۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کیسے جاری کیا گیا اور ایوان کے اجلاس کے روز اس اقدام کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے اس دن کو پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن بھی قرار دیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا نہیں بلکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون آرڈیننس کا ہے، جس پر حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا اور بعد ازاں غلطی کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔





















