درآمدی پالیسی میں نرمی کے بعد ملکی درآمدات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث دسمبر میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 24 فیصد بڑھ گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 میں تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر تھا جو دسمبر 2025 میں بڑھ کر 3 ارب 71 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ دسمبر کے مہینے میں ملکی درآمدات 6 ارب ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 6 ارب 2 کروڑ ڈالر رہیں۔
اس کے برعکس برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی، دسمبر میں برآمدات ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد کم ہو کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر رہ گئیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ماہانہ بنیاد پر درآمدات میں 20 فیصد اضافہ جبکہ برآمدات میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں پاکستان نے بیرونِ ملک سے 34 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں، جبکہ اسی مدت کے دوران صرف 15 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کی جا سکیں۔ یوں رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ملک کو مجموعی طور پر 19 ارب 20 کروڑ ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔



















