وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے اڑان پاکستان وژن کے تحت ای پاکستان حکمت عملی تشکیل دی ہے تاکہ ملک کو ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی میں مسابقتی اور مضبوط بنایا جا سکے۔
جمعے کو اے آئی رائیز ایکسپو 2025 سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جدت کی نئی جہتوں پر روشنی ڈالی۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے اڑان پاکستان وژن کے تحت ای پاکستان حکمت عملی تشکیل دی ہے تاکہ ملک کو ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی میں مسابقتی اور مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برآمدات، ڈیجیٹل معیشت اور جدت اڑان پاکستان کے تین ستون ہیں جن پر ملکی ترقی کا دارومدار ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان خلائی میدان میں ترقی کے لیے پرعزم ہے اور حکومت نے تین نئے نیشنل سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوکوانٹم کمپیوٹنگ ،نینو ٹیکنالوجی اور نیو مینوفیکچرنگ پر مرکوز ہوں گے ۔
احسن اقبال نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی مستقبل کی عالمی مسابقت کا فیصلہ کرے گی اور پاکستان میں قائم ہونے والی کوانٹم ویلی ملک کی ڈیپ ٹیک معیشت کا مرکز بنے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد پاکستان کو ٹیکنالوجی سے لیس، مسابقتی اور جدید قوم بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کی معاشی طاقت کا نیا انجن ہے اور ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کرنے والی قومیں ہی عالمی معیشت کی قیادت کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صنعتوں کو جدید بنانے کے لیے روبوٹکس کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی خوراک، تجارت اور مواصلات کے شعبوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت یونیورسٹی تحقیق کو صنعت اور برآمدات سے منسلک کرنے پر بھی بھرپور کام کر رہی ہے تاکہ نوجوان محققین اور سائنسی استعداد ملک کی معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔





















