معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی نے دوران حراست ایف آئی اے کے افسران پر جسمانی تشدد اور غیرقانونی طور پر پیسے لینے کا الزام عائد کردیا۔
معروف یوٹیوبرسعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی نے الزام لگایاکہ ایف آئی اے کےاہلکاروں نےانہیں حراست کےدوران جسمانی تشدد کانشانہ بنایا، بتایاکہ ایف آئی اےکےاہلکاروں نےمبینہ طورپر تھپڑمارے اور انکے ساتھ بدسلوکی کی، انہوں نے مزیدکہا کہ اس رویے نے انہیں "ہلا کر رکھ دیا،اور ذہنی طور پر پریشان" کردیا۔
ڈکی بھائی نےکہا کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ ویڈیو کا مقصد اپنےخلاف درج ایف آئی آر کا جواز پیش کرنا ہے تو وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نےکہا کہ اگر جان بوجھ کر یا انجانے میں کوئی ایسا مواد اپلوڈ ہوا ہو۔ جس کے نتیجے میں کسی پر منفی اثر پڑا یا کسی پروموشن کا اثر منفی ہوا۔ تو وہ اس کے لیے بھی معافی مانگتے ہیں۔
ڈکی بھائی نےعدالت کے ساتھ مکمل تعاون کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی معاملات کو قانونی طور پر آخر تک دیکھیں گے۔ اور جو بھی فیصلہ جج صاحب کریں گے وہ اسے قبول کریں گے۔
تاہم ایف آئی اے کی جانب سے ڈکی بھائی کی جانب سے کیے گئے دعووں پر کوئی ردعمل نہیں آیا،واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو 17 اگست کو جوا ایپس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا،





















