لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب کے سرکاری ملازمین کو زندگی میں گروپ انشورنس نہ ملنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب نے اہم انکشاف کیا کہ ہوسکتاہے چند سال تک پنشن بند کرنا پڑے۔
سرکاری ملازمین کو زندگی میں گروپ انشورنس نہ ملنے کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کی جس میں چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل عدالت کے حکم پر پیش ہوئے۔
عدالت نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کو انشورنس کی عدم ادائیگی کے معاملے پر چیف سیکریٹری کو ازسرنوجائزہ لے کرحل پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
دوران سماعت چیف سیکرٹری نے بتایا کہ پنشن کی ادائیگیوں کا بوجھ بہت بڑھ چکا ہے، ہوسکتا ہے چند سال تک پنشن بند کرنا پڑے، جس پر جسٹس شجاعت علی خان نے کہا کہ چیف سیکرٹری نے توعدالت کو بھی دھمکادیا،شایدہمیں بھی پنشن نہ ملے، ہمارے ساتھ جو ہونا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں عوام کا سوچنا ہے۔
جسٹس سلطان تنویر نے ریمارکس دیے کہ چیف سیکرٹری توخود گھبرائے ہوئے ہیں شاید انہیں بھی پنشن نہ ملے، جسٹس شجاعت علی خان نے کہا کہ چیف سیکرٹری کو بھی پینشن نہ ملنے پرعدالت کے پاس ہی آناپڑے گا۔ پنجاب حکومت تواقدامات کرنے میں پہلی صف میں کھڑی ہونے کی دعویدار ہے، پنجاب اپنے ملازمین کے ساتھ کھڑا ہے یانہیں، حکومت اپنے ملازمین کے لیے اقدامات کرتے دکھائی کیوں نہیں دے رہی؟ حکومت ملازمین کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ کاروائی ملازمین اور ملک کی بہتری کےلئے ہے، ملک ہے تو ہم ہیں یہ ملازمین بھی ملک کے باشندے ہیں۔ ملازمین کے ساتھ ہی صوبہ چلانا ہے، چیف سیکرٹری نے کہا کہ ہم سب بھی ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچ چکے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ 3 صوبے سرکاری ملازمین کو زندگی میں گروپ انشورنس دے رہے ہیں، وفاق بھی نیم رضا مند ہے، اگر ملازمین کی مشکلات کم نہ کیں تو نظام نہیں چل سکے گا۔ ایڈووکیت جنرل پنجاب نے کہا کہ ملازمین کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اسی نوعیت کے کیسز آئینی بنچ کے سامنے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دیگر صوبوں میں انشورنس زندگی میں ملتی ہے، پنجاب میں گروپ انشورنس کا اہل بننے کےلئے مرنا پڑتاہے۔ قانومی سقم سے ملازمین کو انشورنس فوائد سے محروم کیا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے عدالت پنجاب کے ملازمین کو زندگی میں گروپ انشورنس کی فراہمی کا حکم دے۔



















