سینئر سیاستدان شیر افضل مروت نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ندیم ملک لائیو‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور میں خرابی 26 نومبر سے شروع ہو گئی تھی، 26نومبر کے بعد بشریٰ بی بی ناراض ہوئیں،نارضی اب بھی برقرار ہے۔
شیر افضل مروت کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی کو توقع تھی کہ اسلام آبادکی سڑکوں پر لوگ آئیں گے، علی امین 26 نومبر کو لوگوں کو لائے تھے لیکن لوگ ان سے کنٹرول نہیں ہوئے، علی امین کی بانی پی ٹی آئی سےآخری ملاقات نے استعفے میں کردار ادا کیا، علی امین نے مجھے بتایا انہوں نے بانی کو بتایا انکے خاندان کے لوگ مداخلت کر رہے ہیں، علی امین نےبانی پی ٹی آئی کو بتایا ڈیڑھ سے 2 سال تک آپکی رہائی نظرنہیں آرہی، بانی پی ٹی آئی سمجھتےہیں انکی رہائی اسلام آبادمیں احتجاج میں پنہاں ہے،علی امین پھر 26 نومبر جیسا احتجاج نہیں چاہتے تھے اس لئے سہیل آفریدی کا انتخاب کیا گیا، توقع ہو گی جو کام علی امین نہیں کر سکے وہ سہیل آفریدی کریں گے۔
ان کا کہناتھا کہ علی امین گنڈاپور آپریشن سے متعلق پاک فوج کے ساتھ ایک پیج پر تھے، کل رات تک علی امین پر دباؤ رہا کہ استعفیٰ نہ دیں ڈٹ جائیں، گورنر خیبر پختونخوا نے ابھی علی امین کا استعفیٰ قبول نہیں کیا، اس سب میں مرکزی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، علی امین اپنے معاملات میں توازن اور حکومت چلانے میں کامیاب رہے، سہیل آفریدی کو ٹکراؤ کی سیاست کیلئے لایا گیا ہے، پی ٹی آئی میں ضمیر فروش ہیں، اپوزیشن کو پی ٹی آئی کے 20 سے 22 لوگ آسانی سے دستیاب ہو جائیں گے۔




















