لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل خالد قدوائی نے کہاہے کہ پاک فضائیہ نے مئی 2025 میں ہونے والی جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کے 8 طیارے گرائے جن میں 4 جدید رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔ یہ گزشتہ کئی برسوں میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان سب سے بڑی فضائی جھڑپ قرار دی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں سابق لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے تصدیق کی کہ پاک فضائیہ (پی اے ایف) نے ایک گھنٹے پر محیط شدید فضائی لڑائی میں بھارتی فضائیہ کے سات لڑاکا طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا۔
جنرل قدوائی کا کہناتھا کہ پاکستان نے بھارت کے 4 فرانسیسی ساختہ رافیل فائٹر طیارے (ٹیل نمبر: BS001، BS021، BS022، BS027)، ایک میراج 2000 ، ایک میگ 29، ایک سخوئی 30 ، ایک ہیرون ڈرون تباہ کیا۔
خالد قدوائی کا کہنا تھا کہ یہ ایک ٹیکنالوجی پر مبنی لڑائی تھی جس نے جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک توازن طویل عرصے کے لیے تبدیل کر دیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اس واقعے پر ’’متضاد اور ادھورے بیانیے‘‘ کا سہارا لے رہا ہے جبکہ عالمی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) سے مطابقت رکھتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی طیاروں کو چینی ساختہ PL-15E طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جو جے-10 سی لڑاکا طیاروں سے فائر کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی انٹیلی جنس نے ان میزائلوں کی رینج 150 کلومیٹر سمجھ رکھی تھی جبکہ ان کی اصل رینج 200 کلومیٹر ہے، جس نے پی اے ایف کے پائلٹس کو فیصلہ کن برتری فراہم کی۔
اس آپریشن کو زمینی، فضائی اور خلائی سینسرز پر مبنی جدید نگرانی کے نیٹ ورک کی مدد بھی حاصل تھی جو پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ ’’ڈیٹا لنک 17‘‘ کے ذریعے منسلک تھے۔



















