وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہاہے کہ ڈراموں میں بزنس مین،استادوں اور دیگر شعبوں کی کہانیاں سامنے لانا ہیں، موجودہ دنیا بیانیے کی دنیا ہے،جس کی کہانی اچھی ہے وہ عقل کو بھی مات دے سکتا ہے، فنکاروں کو اسلئے دعوت دی ہے کہ وہ بتائیں کریٹیو انڈسٹری کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزارت منصوبہ بندی کا ثقافتی ترقی کے لئے نیا وژن سامنے آ گیاہے ، اُڑان پاکستان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت دنیا میں سب سےابھرتی صنعت تخلیقی صنعت ہے، تخلیقی صنعت2.5کھرب ڈالر کی ہے،3سے 4 کروڑ افراد سرگرم عمل ہیں، ہماراالمیہ ہے کہ ہم پاکستان کو برآمداتی معیشت نہیں بنا سکے، ہم برآمدات بڑھانے کی کوشش کریں تو درآمدات کا بوجھ ہمارے اوپر آ جاتا ہے، ہمیں اگلے 8 سال برآمدات کو 32 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، ہمارے 8 سنگ میلوں میں ایک تخلیقی صنعت ہے، موجودہ دنیا بیانیے کی دنیا ہے،جس کی کہانی اچھی ہے وہ عقل کو بھی مات دے سکتا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاہے کہ ڈراموں میں بزنس مین،استادوں اور دیگر شعبوں کی کہانیاں سامنے لانا ہیں، ہمیں ساس بہو کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی فلمیں بنانا ہونگی، بھارت کی پولیس ہم سے اچھی نہیں لیکن وہ اپنی فلموں میں پولیس کو اچھا دکھاتے ہیں، تخلیقی صنعت کے ذریعے ہمیں آئندہ نسل میں امنگ جگانا ہو گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2047 میں پاکستان اور بھارت اپنے سو سالہ جشن آزادی منا رہے ہونگے، ہمارے نوجوانوں میں بھرپور صلاحیت ہے لیکن ہم نے ہر معاملے میں نکتہ چینی اختیار کر لی ہے فنکاروں کو اسلئے دعوت دی ہے کہ وہ بتائیں کریٹیو انڈسٹری کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے، اپنی تاریخ اور آرٹس کو دلکش انداز میں پیش کرنا چاہئے،ہمیں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، پاکستان ان ملکوں میں شامل ہیں جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے، آبادی میں اضافے کے موضوع پر ڈرامے بنانا ہوں گے، وہ معاشرتی مسائل جو ترقی میں حائل ہیں انہیں ڈراموں میں دکھایا جا سکتاہے۔






















