وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے شملہ معاہدے کو ’فارغ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو اب سیز فائر لائن سمجھا جائے اور اس کی حیثیت پر بات چیت کی ضرورت ہے جبکہ پاک، بھارت تعلقات 1948 کی پوزیشن پر واپس آ گئے ہیں۔
سماء ٹی وی کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی ہندوتوا سوچ کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیا اور کہا کہ اس سوچ کے حامل افراد کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں خود راہول گاندھی نے مودی کا نام ’سرینڈر‘ رکھ دیا ہے اور مودی سے زیادہ کسی کی مٹی پلید ہوتے نہیں دیکھی جبکہ بھارت میں کہا جا رہا ہے کہ مودی نے سرینڈر کر دیا ہے، جواہر لال نہرو جیسے رہنماؤں کا کوئی مقام تھا لیکن مودی کا کوئی مقام نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خطے کے ممالک کا دباؤ ہے کہ امن برقرار رہنا چاہیے لیکن جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جنگ مسلط کی تو پاکستان پہلے سے زیادہ سخت جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پوری قوم متحد ہو کر جواب دے گی۔
انہوں نے بلاول بھٹو کی سربراہی میں پاکستانی وفد کے غیر ملکی دوروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفد کو عالمی برادری کو باور کرانا چاہیے کہ پاکستان امن کا خواہشمند ہے اور بھارت کے ساتھ مسائل کا حل عالمی برادری کی مدد سے ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے اور وزیر خزانہ اس دوران اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہو چکا ہے۔
خواجہ آصف نے پشاور جرگے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل نے فاٹا کے لوگوں سے واضح بات کی اور کہا کہ اگر دشمن کو مہمان بنانا چھوڑ دیا جائے تو ایک ماہ میں دہشت گردی کا صفایا کیا جا سکتا ہے۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ واپسی کی پالیسی برقرار رہنی چاہیے کیونکہ ان کی پاکستانی سرزمین سے کوئی وفاداری نہیں۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں خیبر روڈ پر پختونستان کا جھنڈا دیکھا تھا اور کئی میٹنگز میں موجود ہوتا تھا جن میں امریکا کہتا تھا حقانیوں کا کچھ کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔



















