سندھ حکومت نے کراچی میں پراپرٹی سروے شروع کر دیا، گھروں، دکانوں اور پلاٹوں کا ریکارڈ جمع کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن نے سروے کو صرف کراچی تک محدود رکھنے پر اعتراض اٹھا دیا۔
کراچی کے ساتوں اضلاع میں گھروں، دکانوں اور پلاٹوں کی گنتی شروع کردی گئی، پراپرٹی سروے کا مقصد بلدیاتی اداروں کو ٹیکس وصولی کے قابل بنانا ہے۔ کلک منصوبہ عالمی بینک کے تعاون سے ایک سال میں مکمل ہوگا، دو کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی۔
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سوال اٹھایا کہ صرف کراچی میں یہ سروے کیوں کیا جارہا ہے؟۔
سندھ حکومت کے مطابق دو ہزار ایک میں شہر میں 9 لاکھ جائیدادیں رجسٹرڈ تھیں۔ نئے سروے کے بعد اب یہ تعداد 33 لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔



















