قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بتایا گیا کہ چین سے ٹرین کی بوگیاں منگوانے کی نسبت پاکستان میں تیار کرنے سے پچاس فیصد کم خرچ آتا ہے۔ ریلوے حکام نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ریلوے اسٹیشنز کی آؤٹ سورسنگ زیر غور ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی اجلاس میں عدم شرکت پر ارکان نےا ستعفے کا مطالبہ کر دیا۔
رائے حسن نواز کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے ارکان نے کیرج فیکٹری اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا۔ ریلوے کے حکام نے بتایا کہ چین کی مدد سےبوگیاں پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں۔ مقامی سطح پر تیار بوگی کی عمر پینتیس سال ہے۔ اگر چین سے بوگی خریدیں تو پچیس کروڑ میں پڑے گی، جبکہ پاکستان میں تیار کرنے کی لاگت تیرہ کروڑ ہے۔
وزیر ریلوے کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت پرارکان نے برہمی کا اظہار کیا۔ رمیش لال نے وزیرریلوے حنیف عباسی کےاستعفیٰ کا مطالبہ کردیا ۔ چئیرمن کمیٹی نے کہا کہ سیکرٹری ریلوےنےبھی اجلاس میں شرکت نہیں کی جو افسوناک عمل ہے۔ ایک بار انہیں معافی دے دیں۔ آئندہ ایسا ہوا تو وزیراعظم ، اسپیکر اور استحقاق کمیٹی کوخط لکھیں گے۔ کمیٹی رکن وسیم قادر نے ریلوے حکام سے پوچھا کہ کچھ اطلاعات ہیں کہ چند ریلوے اسٹیشنز کو آؤٹ سورس کیا جارہا ہے ۔ حکام نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ سےمتعلق سوچ رہےہیں۔ البتہ پرائیوٹ سیکٹر نے ابھی مثبت جواب نہیں دیا۔






















