سانحہ 12 مئی کو 18 برس گزر گئے۔ 60 سے زائد افراد کے قاتل پکڑے گئے نہ ہی کوئی مقدمہ منقطی انجام تک پہنچا۔ وکلا نے آج یوم سیاہ منایا اور گیارہ بجے کے بعد سٹی کورٹ میں عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔
سانحہ 12 مئی2007 کراچی کی تاریخ کا بدترین واقعہ جب پورا شہر آگ میں جل رہا تھا۔ پرتشدد واقعات کے باعث اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری وکلا سے خطاب کیلئے ایئر پورٹ سے سندھ ہائیکورٹ نہ پہنچ سکے۔ فائرنگ کے واقعات میں 60 سے زائد افراد کو قتل کردیا گیا۔
اٹھارہ برس گزر گئے مگر مقدمات کا پہیہ گھومتا جارہا ہے، پولیس نے 57مقدمات اے کلاس کردیئے تھے، 2018 میں سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر 12مقدمات دوبارہ کھولے گئے۔
انسداد دہشت گردی عدالتوں اب صرف 6 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ایک مقدمےمیں وسیم اختربری ہوچکےہیں جبکہ 6مقدمات میں ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر،عمیر صدیقی سمیت21ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے۔
سات مقدمات ایئر پورٹ تھانہ میں درج ہوئےتھے۔ پولیس نے 2016میں 20 ملزموں کو گرفتار جن میں وسیم اختر سمیت بیشتر ملزم ضمانت پر رہا ہیں۔ مفرور ملزموں کے بار بار ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے مگر اُنہیں گرفتار نہیں کیا جاسکا۔






















