حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وفاقی حکومت کی یکساں ٹیرف لاگو کرنے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت کے دوران پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ سبسڈی کو ایڈجسٹ کرلیا گیا ہے،اب ٹیرف نہیں بڑھا رہے، جولائی سے اب تک انرجی مکس میں فرق آیا ہے، حکومت نےٹیرف میں ردوبدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق صنعتی صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں 26 فیصد کمی کی گئی، صنعتی ٹیرف 62.99 روپے سے کم ہو کر 46.31 روپے فی یونٹ رہ گیا، کراس سبسڈی 225 ارب روپے سے کم ہوکر 102 ارب روپے کردی، کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی نمایاں کمی کی گئی ہے۔
بجلی نرخ کا قومی اوسط 53.04 روپے سے کم ہوکر42.27 روپے فی یونٹ ہے، زرعی شعبے کے لیے بجلی نرخوں میں 16 فیصد کمی کی گئی، کمرشل صارفین کے لیے بجلی نرخوں میں 10 فیصد کمی کی گئی، جنرل سروسز کے نرخوں میں 12 فیصد، بلک صارفین کیلئے 15 فیصد کمی کی۔ آزاد جموں و کشمیر کے نرخوں میں 46 فیصد کی نمایاں کمی کی گئی ہے۔
نیپرا میں بجلی کی اوسطاً فی یونٹ قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے سماعت مکمل ہوگئی، نیپرا اتھارٹی اعدادوشمار کا جائزہ لے کر تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔
وفاقی حکومت نے نئے کنزیومر اینڈ ٹیرف کی درخواست دائر کر رکھی ہے، وفاقی حکومت نے بجلی کے موجودہ ٹیرف نوٹیفکیشن میں ترمیم کی تجویز کر رکھی ہے، وفاقی حکومت نے کےالیکٹرک صارفین کیلئےبھی یکساں ٹیرف کے نفاذ کی استدعا کی ہے۔ نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت نظرثانی شدہ ٹیرف نوٹیفکیشن جاری ہوگا، نیپرا کی منظوری کے بعد نئے بجلی نرخوں کا اطلاق 15 جنوری سے متوقع ہے۔
دوران سماعت پاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت بجلی کی قیمت پر سبسڈی دے رہی ہے، یکساں ٹیرف سے بجلی کے ٹیرف میں تبدیلی نہیں ہو گی، نیشنل گرڈ میں بجلی کی انسٹالڈ کپیسٹی 36 ہزار397 میگا واٹ ہے، امپورٹڈ فیول پر انحصار 26 فیصد رہ گیا ہے، ملک میں پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، بجلی کی قیمت میں نہ کمی کی جا رہی ہےنہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔





















