بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دو ماہ کے دوران دوسرا مشن پاکستان بھیج دیا ہے جو ملک میں گورننس میں بہتری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے ابتدائی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں، جبکہ پیر سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ مشن کا مقصد مختلف اداروں میں اصلاحات، شفافیت اور کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔
آئی ایم ایف وفد تیس سے زائد محکموں کے ساتھ مذاکرات کرے گا جن میں وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، منصوبہ بندی کمیشن اور نجکاری کمیشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آڈیٹر جنرل، نیب، ایف آئی اے، اوگرا، نیپرا اور پی ٹی اے کے حکام سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
مشن بینکنگ، تعمیراتی اور شوگر سیکٹر میں مسابقت کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گا، جبکہ سپریم کورٹ اور احتساب عدالتوں کے رجسٹرارز سے ملاقاتیں بھی شیڈول کا حصہ ہوں گی۔