ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مارچ 2025 میں افراط زر کی شرح 0.69 فیصد رہی، جو کہ 59 سال کی کم ترین سطح ہے۔ مارچ 2024 میں افراط زر کی شرح 20.68 فیصد تھی۔ یہ تبدیلی ملک کی اقتصادی صورتحال میں اہم پیش رفت ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے نو ماہ میں افراط زر کی شرح 5.25 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے نو ماہ میں یہ شرح 27.06 فیصد تھی۔ یہ افراط زر میں قابل ذکر کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مارچ 2025 میں افراط زر کی شرح 0.69 فیصد تھی، جو دسمبر 1965 کے بعد سب سے کم ہے۔ اس کے علاوہ، مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں افراط زر میں اضافے کی شرح 5.25 فیصد رہی جو گزشتہ سال کی نسبت نمایاں طور پر کم ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ہم بہتری کی جانب تیزی سےقدم بڑھارہے ہیں، نوازشریف نے منشور میں درج کرایا تھا مہنگائی2026میں سنگل ڈیجٹ پر لائیں گے اور آج میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ پرہے، مہنگائی38فیصد سے ڈیڑھ فیصد پر آچکی ہے، ایک سال میں پیٹرول کی قیمت38روپے کی کمی آئی، پیٹرول کی قیمت پاکستان میں پورےخطے سے کم ہیں، ساڑھے22فیصد شرح سود تھی،آج12 فیصد پر آچکی ہے۔