عالمی مالیاتی ادارے سے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی اگلی قسط کے حصول کیلئے آئی ایم ایف جائزہ مشن اور پاکستان کے درمیان مذاکرات دوسرے دن بھی جاری ہیں، عالمی مالیاتی ادارے کو جولائی سے فروری تک کے معاشی اشاریوں پر بریفنگ دی گئی، حکومتی ٹیم نے بتایا میکرو اکنامک استحکام پیدا ہوچکا ہے، ٹیکس اور توانائی شعبے میں اصلاحات جاری ہیں، سرکاری اداروں میں رائٹ سائزنگ اور نجکاری میں پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے دورے پر موجود آئی ایم ایف وفد نے دوسرے روز بھی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر حکام سے ملاقات کی، جس میں مالیاتی امور پر مذاکرات اور بریفنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد کی قیادت ناتھن پورٹر کررہے ہیں، سیکریٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔
آئی ایم ایف مشن نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اونگزیب اور معاشی ٹیم کے ارکان سے ملاقات میں 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی اگلی قسط کیلئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف مشن کو اب تک کی معاشی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا۔
پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام پر سختی سے کاربند رہنے کیلئے پُرعزم ہے۔
آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام پیدا ہوچکا ہے، ٹیکس اور توانائی شعبے میں اصلاحات جاری ہیں۔
عالمی ادارے کے وفد کو سرکاری اداروں میں رائٹ سائزنگ اور نجکاری میں پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ایکسچینج ریٹ اور زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہیں۔
حکام نے آئی ایم ایف مشن کو جولائی سے فروری تک معاشی اشاریوں پر بریفنگ دی، جس کے مطابق مالیاتی خسارہ، پرائمری بیلنس، صوبوں کا سرپلس، ریونیو محاصل میں بہتری آئی ہے۔
پاکستانی نمائندوں کی آئی ایم ایف وفد سے رواں مالی سال کیلئے جولائی سے جنوری تک ریونیو پر بات چیت ہوئی۔
ریونیو محاصل پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دی، ایف بی آر کے ممبران بھی آئی ایم ایف وفد کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوئے، اکنامک ونگ، بجٹ ونگ، ایکسٹرنل فنانس ونگ، ریگولیشنز ونگ، ڈی جی ڈیٹ سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی سے دسمبر تک مالیاتی خسارہ ایک ہزار 537 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر حکام سے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ سے واپس روانہ ہوگیا، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے ساتھ مزید مذاکرات نجی ہوٹل میں ہوں گے، سیکریٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر مذاکرات میں شریک ہونگے، آئی ایم ایف وفد کے وزارت توانائی اور دیگر وزارتوں سے بھی مذاکرات ہوں گے۔