سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں 1996 کے فون ٹیپنگ کیس کی سماعت کی۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ قانون ہر کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس مقدمے کا فیصلہ زیر التوا کئی مقدمات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 2013 سے فون ٹیپنگ سے متعلق قانون موجود ہے ۔ جس کے تحت آئی ایس آئی اور آئی بی کو نوٹیفائی کیا گیا۔ قانون میں فون ٹیپنگ کا طریقہ کار اورعدالتی نگرانی کا ذکر ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا فون ٹیپنگ کی اجازت دینے کے لیے کسی جج کو نامزد کیا گیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں موجود ابہام کو دور کرنا ہوگا کیونکہ اس مقدمے کا فیصلہ دیگر زیر التوا کیسز پر اثر ڈالے گا۔ عدالت نے کیس پر ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔