آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے مگر پاکستان میں کئی طبقات اس وقت بھی اپنے حقوق سے محروم ہیں۔
انسانی حقوق کا عالمی دن 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ہر طبقے کے لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور آگاہی فراہم کرنا ہے۔
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس نے پاکستان کو انسانی حقوق فراہمی میں 140 ممالک میں سے 125 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی حال ہی میں حکومت پاکستان کو انسانی حقوق سے متصادم قانون سازیاں نہ کرنے کی تلقین کر چکی۔
ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی سال 2024 کی اپنی رپورٹ میں اظہار تشویش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ اسٹریٹ کرائم 11 فیصد بڑھ گئے جبکہ ڈکیتیوں میں مزاحمت پر بھی 134 شہری جان گنوا بیٹھے۔ ڈھائی کروڑ بچوں کا اسکول سے باہر ہونا بھی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
لاپتہ افراد کے مسئلے پر سخت عدالتی احکامات اور حکومتی اقدامات سے کچھ بہتری ضرور سامنے آئی ہے۔ لاپتہ افراد کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق رواں برس سب سے کم شکایات موصول ہوئیں۔ 2018 تک سالانہ ایک ہزار سے زائد شکایات مل رہی تھیں جبکہ 2024 میں صرف 350 درخواستیں آئیں۔ اس بہتری کے باوجود مجموعی طور پر2200 سے زائد لاپتہ افراد کے مقدمات اب بھی حل طلب ہیں۔