امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہاہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر زیادہ فعال کردار ادا کررہے ہیں، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی چند اقدامات سے مشروط ہوگی، صرف آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی نہیں دی جائے گی،ایران کو افزودہ یورینیم پر مذاکرات کا بھی پابند ہونا ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سینیٹ فارن ریلیشنز کمیٹی میں پیش ہوئے جس دوران بجٹ اور ایران جنگ سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے ، انہوں نے کہا کہ امریکا اب بھی دنیا کی واحد عالمی عظیم طاقت ہیں، اس طاقت کوامریکیوں کے تحفظ کیلئے استعمال نہ کیا تواس کی اہمیت کم رہ جاتی ہے، ہماری خارجہ پالیسی امریکا کے قومی مفادات پر مرکوز ہے، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کیا تو ہم ناکہ بندی کردی، ناکہ بندی سے روزانہ ایران کو کئی ملین ڈالرز کا نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری انتہائی کامیاب رہا، ہم نے ایران کے خلاف تمام فوجی اہداف حاصل کیے، ایرانی دفاعی صلاحیت کو حیران کن حد تک کم کیا، ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کرسکتا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک ایران ایٹمی پروگرام کا ذکر کرنا بھی نہیں چاہتا تھا، یہ کسی حتمی قابل قبول ڈیل کی گارنٹی نہیں ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی پہلی شرط آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے، ایران کو واضح اعلان کرنا ہوگا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر زیادہ فعال کردار ادا کررہے ہیں، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی چند اقدامات سے مشروط ہوگی، صرف آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی نہیں دی جائے گی،ایران کو افزودہ یورینیم پر مذاکرات کا بھی پابند ہونا ہوگا۔





















